خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 88

خلافة على منهاج النبوة جلد اول جب خلافت تلوار کے زور سے مٹادی گئی تو اب کسی کو گناہ نہیں کہ وہ بیعت خلیفہ کیوں نہیں کرتا۔مگر اس وقت وہ کونسی تلوار ہے جو ہم کو قیام خلافت سے روکتی ہے۔اب بھی اگر کوئی حکومت ز بر دستی خلافت کے سلسلہ کو روک دے تو یہ الہی فعل ہوگا اور لوگوں کو رُکنا پڑے گا۔لیکن جب تک خلافت میں کوئی روک نہیں آتی اُس وقت تک کون خلافت کو روک سکتا ہے اور اُس وقت تک کہ خلیفہ ہو سکتا ہو جب کوئی خلافت کا انکار کرے گا وہ اُسی حکم کے ماتحت آئے گا جو ابو بکر ، عمر ، عثمان رضی اللہ عنہم کے منکرین کا ہے۔ہاں جب خلافت ہو ہی نہیں تو اس کے ذمہ دار تم نہیں۔سارق کی سزا قرآن مجید میں ہاتھ کاٹنا ہے۔اب اگر اسلامی سلطنت نہیں اور چور کا ہاتھ نہیں کا ٹا جا تا تو یہ کوئی قصور نہیں غیر اسلامی سلطنت اس حکم کی پابند نہیں۔موجودہ انتظام میں وقتیں اب دیکھنا ہے کہ موجودہ انتظام میں کیا وقتیں پیش آ رہی ہیں۔انجمن کے بعض ممبر جنہوں نے بیعت نہیں کی وہ اپنی ہی مجموعی رائے کو انجمن قرار دے کر کہتے ہیں کہ انجمن جانشین ہے۔دوسری طرف ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور واقعات نے اس کی تائید بھی کی کہ جماعت کے ایک کثیر حصہ کو اس کے سامنے جھکا دیا۔اب اگر دو عملی رہے تو تفرقہ بڑھے گا ایک میان میں دو تلوار میں سما نہیں سکتیں۔پس تم غور کرو اور مجھے مشورہ دو کہ کیا کرنا چاہیے۔میری غرض اس مشورہ سے شاورهم پر عمل کرنا ہے ورنہ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ میرے سامنے ہے میں تو یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی میرا ساتھ نہ دے تو خدا میرے ساتھ ہے۔میں پھر ایک دفعہ اس سوال کا جواب دیتا ہوں کہ اگر کوئی بات ماننی ہی نہیں تو مشورہ کا کیا فائدہ؟ یہ بہت چھوٹی سی بات ہے ایک دماغ سوچتا ہے تو اس میں محدود باتیں آتی ہیں اگر دو ہزار آدمی قرآن مجید کی آیات پر غور کر کے ایک مجلس میں معنی بیان کریں تو بعض غلط بھی ہوں گے مگر اس میں بھی تو کوئی شبہ نہیں کہ اکثر درست بھی ہوں گے پس درست لے لئے جائیں گے اور غلط چھوڑ دیئے جائیں گے۔اسی طرح ایسے مشوروں میں جو امور صحیح ہوں وہ لے لئے جائیں گے۔ایک آدمی اتنی تجاویز نہیں سوچ سکتا ایک وقت میں بہت سے آدمی