خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 87

خلافة على منهاج النبوة ۸۷ جلد اول يعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کے ایک معنی تو میں اپنے اس ٹریکٹ میں لکھ چکا ہوں جو’ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ایک دوسرے معنی بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس آیت میں اول تو خدا تعالیٰ کے وعدہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ وعد الله - پھر خلافت دینے کے وعدے کو لام تاکید اور نونِ تاکید سے مؤکد کیا اور بتایا کہ خدا ایسا کرے گا اور ضرور کرے گا۔پھر بتایا کہ خدا ضرورضروران خلفاء کو تمکین عطا کرے گا اور پھر فرمایا کہ خدا ضرور ضرور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔غرض کہ تین بار لام تاکید اور نونِ تاکید لگا کر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسا خدا ہی کرے گا کسی کا اس میں دخل نہ ہوگا۔اس کی غرض بتائی کہ ایسا کیوں ہوگا ؟ اس لئے کہ يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا اس کے نتیجہ میں وہ میری ہی عبادت کریں گے کسی کو میرا شریک نہ قرار دیں گے یعنی اگر انسانی کوشش سے خلیفہ بنے تو خلیفہ کو گروہ سے دبتے رہنا پڑے کہ ان لوگوں نے مجھ پر احسان کیا ہے۔پس ہم سب کچھ خود ہی کریں گے تا شرک خلفاء کے قریب بھی نہ پھٹک سکے۔اور جب خلیفہ اس وقت اور قدرت کو دیکھے گا جس کے ذریعہ خدا نے اسے قائم کیا ہے تو اُسے وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ اس میں کسی دوسرے کا بھی ہاتھ ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً یہ معنی خدا تعالیٰ نے بتائے ہیں پس خلیفہ خدا مقر ر کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کو مٹا سکے۔بعض کہتے ہیں کہ اگر خلیفے نہ ہوں تو کیا مسلمانوں کی نجات نہ ہو گی جب خلافت نہ رہی تو اُس وقت کے مسلمانوں کا پھر کیا حال ہوگا ؟ یہ ایک دھوکا ہے دیکھو قرآن مجید میں وضو کے لئے ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن اگر کسی کا ہاتھ کٹ جائے تو اس کا وضو بغیر ہاتھ دھوئے کے ہو جائے گا۔اب اگر کوئی شخص کسی ایسے ہاتھ کئے آدمی کو پیش کر کے کہے کہ دیکھو اس کا وضو ہو جاتا ہے یا نہیں؟ جب یہ کہیں کہ ہاں ہو جاتا ہے تو وہ کہے کہ بس اب میں بھی ہاتھ نہ دھوؤں گا تو کیا وہ راستی پر ہو گا ؟ ہم کہیں گے کہ اس کا ہاتھ کٹ گیا مگر تیرا تو موجود ہے۔پس یہی جواب ان معترضین کا ہے۔ہم انہیں کہتے ہیں کہ ایک زمانہ میں جابر بادشاہوں نے تلوار کے زور سے خلافتِ راشدہ کو قائم نہ ہونے دیا کیونکہ ہر کام ایک مدت کے بعد مٹ جاتا ہے پس