خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 89
خلافة على منهاج النبوة ۸۹ جلد اول ایک امر پر سوچیں گے تو انشاء اللہ کوئی مفید راہ نکل آئے گی۔پھر مشورہ سے یہ بھی غرض ہے کہ تمہاری دماغی طاقتیں ضائع نہ ہوں بلکہ قومی کاموں میں مل کر غور کرنے اور سوچنے اور کام کرنے کی طاقت تم میں پیدا ہو۔پھر ایک اور بات ہے کہ اس قسم کے مشوروں سے آئندہ لوگ خلافت کے لئے تیار ہوتے رہتے ہیں۔اگر خلیفہ لوگوں سے مشورہ ہی نہ لے تو نتیجہ یہ نکلے کہ قوم میں کوئی دانا انسان ہی نہ رہے اور دوسرا خلیفہ احمق ہی ہو کیونکہ اسے کبھی کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ہماری پچھلی حکومتوں میں یہی نقص تھا۔شاہی خاندان کے لوگوں کو مشورہ میں شامل نہ کیا جاتا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کے دماغ مشکلات حل کرنے کے عادی نہ ہوتے تھے اور حکومت رفتہ رفتہ تباہ ہو جاتی تھی۔پس مشورہ لینے سے یہ بھی غرض ہے کہ قابل دماغوں کی رفتہ رفتہ تربیت ہو سکے تا کہ ایک وقت وہ کام سنبھال سکیں۔جب لوگوں سے مشورہ لیا جاتا ہے تو لوگوں کو سوچنے کا موقع ملتا ہے اور اس سے ان کی استعدادوں میں ترقی ہوتی ہے۔ایسے مشوروں میں یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے کے چھوڑنے میں آسانی ہوتی ہے اور طبیعتوں میں ضد اور ہٹ نہیں پیدا ہوتی۔اس وقت جو دقتیں ہیں وہ اس قسم کی ہیں کہ باہر سے خطوط آتے ہیں کہ واعظ بھیج دو۔اب جو انجمن کے ملازم ہیں انہیں کون بھیجے۔انجمن تو خلیفہ کے ماتحت ہے نہیں۔حضرت خلیفہ اوّل ملازمین کو بھیج دیتے اور وہ آن ڈیوٹی (ON DUTY) سمجھے جاتے تھے ہمارے ہاں کام کرنے والے آدمی تھوڑے ہیں اس لئے یہ دقتیں پیش آتی ہیں۔یا ایک شخص آتا ہے کہ مجھے فلاں ضرورت ہے مجھے کچھ دو۔پچھلے دنوں مونگیر والوں نے لکھا کہ یہاں مسجد کا جھگڑا ہے اور جماعت کمزور ہے مدد کرو۔حضرت صاحب کو میں نے دیکھا ہے کہ مسجدوں کے معاملات میں بڑی احتیاط کرتے۔حضرت خلیفہ اسیح بھی بڑی کوشش کرتے۔کپورتھلہ کی مسجد کا مقدمہ تھا حضرت صاحب نے فرمایا کہ اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد ضرور ملے گی۔غرض مسجد کے معاملہ میں بڑی احتیاط فرماتے۔اب ایسے موقع پر میں تو پسند نہیں کر سکتا تھا کہ ان کی مدد نہ کی جائے اس لئے مجھے روپیہ بھیجنا ہی پڑا۔یا مثلاً کوئی اور فتنہ ہو اور کوئی ماننے والا نہ ہو تو کیا ہو۔اس قسم کی دقتیں اس اختلاف کی وجہ سے پیش آ رہی ہیں اور پیش آئیں گی۔اللہ تعالیٰ پر میری