خزینۃ الدعا — Page 193
خَرينَةُ الدُّعَاءِ 13 ادْعِيَةُ المَهْدِى اس کو مانگنی بھی نہیں پڑتیں وہ خود بخوشی قبول ہوتی چلی جاتی ہیں۔بڑی مشقت اور محنت طلب یہی دعا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور راستباز ٹھہرایا جاوے۔“ دوستوں کے لئے دعا ( ملفوظات جلد 3 ص 617) نیز فرمایا: ” مجھے یہ الہام با رہا ہو چکا ہے اُجیب كُلَّ دُعَائِكَ۔۔۔کہ ہر ایک ایسی دعا جو نفس الامر میں نافع اور مفید ہے قبول کی جائے گی۔۔۔جب مجھے یہ اول ہی اول الہام ہوا تو مجھے بہت ہی خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ میری دعائیں جو میرے یا میرے احباب کے متعلق ہوں گی ضرور قبول کرے گا۔۔۔پس میں نے اپنے دوستوں کے لئے یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ خواہ وہ یاد دلائیں یا نہ یاد دلائیں کوئی امر خطیر پیش کریں یا نہ کریں ان کی دینی اور دنیوی بھلائی کے لئے دعا کی جاتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل ص67) ”جو شخص چاہے کہ ہم اس سے پیار کریں اور ہماری دعائیں نیازمندی اور سوز سے اس کے حق میں آسمان پر جائیں وہ ہمیں اس بات کا یقین دلا دے کہ وہ خادم دین ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل ص 311) جو حالت میری توجہ کو جذب کرتی ہے اور جسے دیکھ کر میں دعا کے لئے اپنے اندر تحریک پاتا ہوں وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی شخص کی نسبت معلوم کرلوں کہ یہ خدمت دین کے سزاوار ہے اور اس کا وجود خدا تعالیٰ کیلئے خدا کے رسول کیلئے ، خدا کی کتاب کیلئے اور خدا کے بندوں کے لئے نافع ہے۔ایسے شخص کو جو در دوالم پہنچے وہ در حقیقت مجھے پہنچتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل ص215) میں ہمیشہ دعاؤں میں لگا رہتا ہوں اور سب سے مقدم دعا یہی ہوتی ہے کہ میرے دوستوں کو ہموم اور مغموم سے محفوظ رکھے کیونکہ مجھے تو ان کے ہی افکار اور رنج غم میں ڈالتے ہیں۔اور پھر یہ دعا مجموعی ہیبت سے کی جاتی ہے کہ اگر کسی کو کوئی رنج اور تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالی اس سے نجات دے۔ساری سرگرمی اور پورا جوش یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 66) 195