خزینۃ الدعا — Page 183
ورو خَزِينَةُ الدُّعَاءِ 3 ادعِيَةُ المَهْدِى مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں تھکتے نہیں کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں سست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔مبارک تم جب کہ دعا کرنے میں کبھی ماند ہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دعا کے لئے پچھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینہ میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے۔اور تمہیں تنہائی کا ذوق اُٹھانے کے لئے اندھیری کوٹھڑیوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنا دیتی ہے۔کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم و رحیم ، حیا والا، صادق، وفادار ، عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا۔“ لیکچر سیالکوٹ صفحہ 26 تا 28 روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 222 تا223) قبولیت دعا کے بارہ میں یہاں یہ نکتہ بھی یادرکھنے کے لائق ہے کہ دعا کا قبول ہونا دو طور سے ہوتا ہے ایک بطور ابتلاء اور ایک بطور اصطفا۔بطور ابتلاء تو کبھی کبھی گنہگاروں، نافرمانوں بلکہ کافروں کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے مگر ایسا قبول ہونا حقیقی قبولیت پر دلالت نہیں کرتا لیکن جو دعا ئیں اصطفاء کی وجہ سے قبول ہوتی ہیں ان میں یہ نشان ہوتے ہیں۔اول یہ کہ دعا کرنے والا متقی اور راستباز اور کامل فرد ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ بذریعہ مکالمات الہیہ اس دعا کی قبولیت سے اس کو اطلاع دی جاتی ہے۔تیسرے یہ کہ اکثر وہ دعائیں جو قبول کی جاتی ہیں نہایت اعلیٰ درجہ کی اور پیچیدہ کاموں کے متعلق ہوتی ہیں جن کی قبولیت سے کھل جاتا ہے کہ یہ انسان کا کام اور تدبیر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص نمونہ قدرت ہے جو خاص بندوں پر ظاہر ہوتا ہے۔چوتھے یہ کہ ابتلائی دعا ئیں تو کبھی کبھی شاذ و نادر کے طور پر قبول ہوتی ہیں لیکن اصطفائی دعا ئیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔185