خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 182 of 267

خزینۃ الدعا — Page 182

خَرينَةُ الدُّعَاءِ 2 ادْعِيَةُ المَهْدِى پشتوں کے بگڑے ہوئے الٹی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ بِعَدَدِهَمِّهِ وَغَمِّهِ وَ حُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَأُنْزِلُ عَلَيْهِ أَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ۔“ ( برکات الدعاصفحہ 13 روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 11,10) قبولیت دعا کے بارہ میں اپنے تجربہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے۔بلکہ اسباب طبیعہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔( برکات الد عاصفحہ 16 روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 11) 66 نیز فرمایا ” ابتلاؤں میں ہی دعاؤں کے عجیب وغریب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہیں۔اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه 147) پھر اپنے ذاتی تجربہ سے دعا کی جو قوت اور طاقت آپ نے محسوس کی اس بارہ میں اپنی زندگی کا نچوڑ یہ پیش فرمایا:۔وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کوکشتی بن جاتی ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔184