خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 184 of 267

خزینۃ الدعا — Page 184

حزينَةُ الدُّعَاءِ 4 ادْعِيَةُ المَهْدِى پانچویں یہ کہ صاحب اصطفائی دعا کا ،موردعنایات الہی کا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے تمام کاموں میں اس کا متولی ہو جاتا ہے۔اور عشق الٰہی کا نور اور مقبولا نہ کبریائی کی ہستی اور روحانی لذت یابی اور تنعم کے آثار اس کے چہرہ میں نمایاں ہوتے ہیں۔یہ پانچ نمایاں خصوصیات ہیں جو سید نا حضرت مسیح موعود کی قبولیت دعا کے نشانوں میں اپنی پوری عظمت کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔دعا کی اہمیت اور برکات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔وہ ( یعنی بعض لوگ ) حقیقت دعا سے محض نا واقف ہوتے ہیں اور اس کے اثر سے بے خبر۔اور اپنی خالی اُمیدوں کو پورا نہ ہوتے دیکھ کر کہہ اٹھتے ہیں کہ دعا کوئی چیز نہیں 66 اور اس سے برگشتہ ہو جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 150 ) سانپ کے زہر کی طرح انسان میں زہر ہے۔اس کا تریاق دعا ہے جس کے ذریعہ سے آسمان سے چشمہ جاری ہوتا ہے۔جو دعا سے غافل ہے وہ مارا گیا۔ایک دن اور رات جس کی دعا سے خالی ہے وہ شیطان سے قریب ہوا۔ہر روز دیکھنا چاہئے کہ جو حق دعاؤں کا تھا وہ ادا کیا ہے کہ نہیں۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 591) اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خیریت سے رہو اور تمہارے گھروں میں امن رہے تو مناسب ہے کہ دعا ئیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پر کرو۔جس گھر میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے خدا تعالیٰ اسے برباد نہیں کیا کرتا۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 232) میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہیں ان کی اُم (یعنی اصل یا جڑ۔مرتب) کیا ہے خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ ان کی اُم اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : 61) ہے۔کوئی انسان بدی سے بیچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 333) نشان کی جڑ دعا ہی ہے۔یہ اسم اعظم ہے اور دنیا کا تختہ پلٹ سکتی ہے۔دعا مومن کا ہتھیار ہے اور ضرور ہے اور ضرور ہے کہ پہلے ابتہال اور اضطراب کی حالت پیدا ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 202 ہو۔66 186