ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 95 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 95

۹۵ اس اعلان کے لئے آمادہ ہیں کہ ہم اس بحث میں ساری پیش کردہ حدیثوں کو مانتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر وہ خُود سوچ لیں کہ قرآن کو اُنہوں نے کلی طور پر چھوڑا۔حدیثوں کے نصف بہتر حصّہ سے اُنہوں نے مُنہ موڑا اور پھر بھی انہیں اس محرومی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا کہ اپنے رسول کی شان گھٹا کر اور خُدائی انعاموں کی نہریں خشک کر کے بیٹھ گئے۔فاعتبروا یا اولی الابصار - حدیث لا نبی بعدی کی تشریح اس کے بعد میں نہایت اختصار کے ساتھ منفی قسم کی حدیثوں کو نمبر وار لیتا ہوں۔اس میدان میں سب سے پہلے ہمارے سامنے یہ حدیث آتی ہے کہ لا نبی بعدی (یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں اس حدیث پر ہمارے مخالفوں کا بڑا زور ہے کہ دیکھو کس طرح رسول پاک نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔اور اُنہوں نے اس حدیث کو اپنی تحریروں اور تقریروں میں بار بار بیان کر کے اور اس کی غلط تشریحات پیش کر کے گو یا عوام الناس کے دل و دماغ پر ایک گونہ سحر کر رکھا ہے لیکن انشاء اللہ خدا کے فضل اور اُس کے رسول کی برکت سے یہ طلسم زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتا۔بات یہ ہے کہ لا نبی بعدی کے لفظی معنی بیشک یہی ہیں کہ ” میرے بعد کوئی نبی نہیں لیکن اس بات کو ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے کہ بعض اوقات لا ( یعنی نہیں ) کے لفظ سے ایک بات کی نفی کی جاتی ہے۔مگر اس سے عام نفی مراد نہیں ہوتی بلکہ محدود قسم کی نفی مراد ہوتی ہے جسے قواعد عربی کے محاورہ میں نفی جنس کہتے ہیں۔اُردو زبان میں اس کی مثال یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ مثلاً اگر کسی سکول کا ہیڈ ماسٹر خاص طور پر اعلیٰ اور ممتاز قابلیت کا ہو اور