ختم نبوت کی حقیقت — Page 63
۶۳ مگر اس صورت میں یہ عبارت ایک بالکل مہمل اور بے معنی کلام بن جاتی ہے۔کیونکہ ظاہر ہے کہ دونوں صورتوں میں حضرت ابو بکر نے ہی افضل رہنا تھا۔اور اس طرح اس حدیث میں اڑا ( یعنی سوائے اس کے کہ ) کے لفظ کا استعمال بالکل غیر ضروری بلکہ غلط قرار پاتا ہے۔بہر حال جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں اور ہر شخص اصل کتا بیں دیکھ کر خود تسلی کر سکتا ہے۔اس حدیث میں نبی کا لفظ مرفوع صُورت میں استعمال ہوا ہے نہ کہ منصوب صورت میں۔اور حدیث کا صحیح تر جمہ یہی ہے کہ :۔ابو بکر میری اُمت کا افضل ترین انسان ہے سوائے اس کے کہ آئندہ کوئی نبی پید اہو جائے۔“ اب دیکھو کہ یہ حدیث کتنی واضح اور کتنی صاف ہے مگر جو قوم دیکھنے کے لئے تیار نہ ہوا سے کس طرح دکھایا جائے۔اور جو انسان سُننے کے لئے تیار نہ ہوا سے کس طرح سنایا جائے۔اور جو شخص سمجھنے کے لئے تیار نہ ہوا سے کس طرح سمجھایا جائے؟ قرآن کس افسوس کے ساتھ کہتا ہے کہ اَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ آمَ عَلى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا فَانَّا للهِ وَانَّا اليه راجعون آخری زمانہ میں پھر دوبارہ منہاج نبوت کا دور مقدر تھا اب میں ایک ایسی حدیث پیش کرتا ہوں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے مختلف دوروں کا ذکر فرمایا ہے اور وضاحت فرمائی ہے کہ جس طرح اسلام کا آغا ز نبوت سے ہوا اور اس کے بعد نبوت کے منہاج پر خلافت قائم ہوئی اسی طرح ایک لمبے زمانہ کے بعد جو درمیانی عرصہ میں گزرے گا آخری ایام میں پھر