ختم نبوت کی حقیقت — Page 64
۶۴ دوبارہ نبوت ہی کے منہاج پر خلافت قائم ہوگی۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔تكون النّبوّة فيكم ما شاء الله ان تكون ثم يرفعها الله تعالى ثم تكون خلافة على منهاج النبوة ما شاء الله ان تكون ثم يرفعها الله تعالى ثم تكون ملكًا عاضًا فتكون ما شاء الله ان تكون ثم يرفعها الله تعالى- ثمّ تكون ملكًا جبرية فتكون ماشاء الله ان تكون ثمّ يرفعها الله تعالى- ثم تكون خلافة على منهاج النبوة ثم سكت۔(مسند احمد جلد ۵ صفحه ۴۰۴) د یعنی اے مسلما نو تم میں یہ نبوت کا دور اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ خدا چاہے گا کہ وہ قائم رہے۔اور پھر یہ دور ختم ہو جائے گا۔اس کے بعد خلافت کا دور آئے گا جو نبوت کے طریق پر قائم ہوگی۔(اور گویا اس کا تمہ ہوگی ) اور پھر کچھ وقت کے بعد یہ خلافت بھی اُٹھ جائے گی۔اس کے بعد کاٹنے والی ( یعنی لوگوں پر ظلم کرنے والی ) بادشاہت کا دور آئے گا۔اور پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ دور بھی ختم ہو جائے گا۔اس کے بعد جبری حکومت کا دور آئے گا جو خواہ ظلم کے طریق سے اجتناب کرے۔مگر وہ جمہوریت کے اُصول کے خلاف ہوگی اور پھر اس رنگ کی حکومت بھی اُٹھ جائے گی۔اس کے بعد پھر دوبارہ خلافت کا دور آئے گا جو ابتدائی دور کی طرح نبوت کے طریق پر قائم ہوگی۔اس کے بعد راوی کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔“