ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 36 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 36

۳۶ اپنے نبی متبوع کی پیروی کی بناء پر نبوت کا انعام نہیں پاسکتے تھے وہاں ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لئے آپ کی شاگردی میں علی قدر مراتب صدّیق اور شہید کے انعاموں کے علاوہ نبوت کا انعام بھی گھلا ہے۔وذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم - مع کے لفظ کی تشریح اگر اس جگہ کسی شخص کو یہ خیال گزرے کہ سورۂ نساء والی آیت میں مع ( یعنی ساتھ ) کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین نبی نہیں بن سکتے بلکہ صرف نبیوں کی معیت حاصل کر سکتے ہیں۔تو یہ ایک سخت کوتاہ نظری کا اعتراض ہو گا۔کیونکہ اول تو اِس آیت میں معَ کا لفظ نبیوں کے ساتھ استعمال نہیں ہوا۔بلکہ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ کے الفاظ کے ساتھ استعمال ہوا ہے جن میں نبی اور صدیق اور شہید اور صالح سب شامل ہیں۔پس اگر مع کے لفظ کی وجہ سے اس آیت کا یہ مطلب لیا جائے کہ ایک مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی اور پیروی کی وجہ سے موت کا انعام نہیں پا سکتا۔بلکہ صرف نبیوں کی ظاہری معنیت حاصل کر سکتا ہے تو پھر اس کے ساتھ یہ بات بھی لا زما قبول کرنی ہوگی کہ نعوذ باللہ کوئی مسلمان منعم علیہ گروہ میں شامل ہی نہیں ہوسکتا۔اور نبی بننا تو الگ رہا صدیق اور شہید اور صالح بھی نہیں بن سکتا اور ہر مسلمان سمجھ سکتا ہے کہ یہ بات بالبداہت باطل ہے۔علاوہ ازیں عربی زبان کے محاورہ کی رو سے یہ بات ثابت ہے کہ بعض اوقات مع کا