ختم نبوت کی حقیقت — Page 37
۳۷ لفظ من کے معنوں میں بھی آتا ہے۔چنانچہ خود قرآن مجید فرماتا ہے کہ:۔رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ( سوره آل عمران آیت (۱۹۴) یعنی اے ہمارے رب ہمارے گناہوں کو بخش اور ہماری کمزوریوں کو دُور فرما اور ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ ( یعنی نیک بندوں میں شامل کر کے ) وفات دے۔اس آیت میں جو مع الابرار ( یعنی نیک بندوں کے ساتھ ) کا لفظ آتا ہے اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے یعنی جب کوئی نیک آدمی مرنے لگے تو اُس وقت ہماری جان بھی قبض کر لے۔بلکہ اس جگہ مع کے معنی یقیناً من کے ہیں۔اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں نیک بندوں میں شامل کر کے وفات دے اور ایسا نہ ہو کہ ہم گناہ کی حالت میں مریں۔اسی طرح مثلاً ابلیس کے سجدہ نہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید ایک جگہ تو مین کا لفظ استعمال کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ لحم يَكُن من الشجِدِينَ (سورۃ اعراف آیت ۱۲) '' یعنی ابلیس سجدہ کر نیوالوں میں نہیں تھا اور دوسری جگہ اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے معَ کا لفظ استعمال کر کے فرماتا ہے۔آبي آن يَكُونَ مَعَ الشجدِينَ (سوره حجر آیت ۳۲) ابلیس نے سجدہ کر نیوالوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا۔اور اسطرح گویا خُود قرآن نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ بعض اوقات مع کا لفظ من کے معنوں میں بھی استعمال ہو جایا کرتا ہے وَهُوَ الْمُرَادُ۔الغرض مع کے لفظ کا مین کے معنوں میں استعمال ہونا عربی زبان میں اتنا عام ہے