ختم نبوت کی حقیقت — Page 14
۱۴ (۱) اوّل تشریعی نبوت یعنی ایسی نبوت جس کے ساتھ کسی نئی شریعت کا نزول ہو جیسا کہ مثلاً حضرت موسیٰ یا ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تھی۔ایسی نبوت بعض اوقات حقیقی ثبوت کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔اور یہ نام اسے اس لئے دیا گیا ہے کہ نبوت کے ہر سلسلہ کا آغاز تشریعی نبوت سے ہی ہوتا ہے۔اور باقی دونوں قسم کی نبو تھیں اس کے پیچھے آتی ہیں۔پس اگر غور کیا جائے تو در اصل تشریعی نبوت ہی حقیقی نبوت کا نام پانے کی مستحق ہے۔(۲) دوسرے غیر تشریعی مستقل نبوت یعنی ایسی نبوت جس کے ساتھ کوئی نئی شریعت تو نہیں ہوتی۔مگر ویسے وہ ایک مستقل نبوت ہوتی ہے جو براہِ راست خدا کی طرف سے ملتی ہے۔اور اس میں کسی سابقہ نبی کی فیض رسانی کا دخل نہیں ہوتا جیسا کہ مثلاً حضرت داؤ ڈ اور حضرت عیسی کی نبوت تھی جو موسوی شریعت کے خادم تو بے شک تھے مگر اُن کی نبوت میں حضرت موسی کی فیض رسانی کا کوئی دخل نہیں تھا۔بلکہ انہوں نے براہ راست مستقل حیثیت میں نبوت کا انعام پایا تھا۔یہ نبوت مستقل نبوت کے نام سے موسوم ہوتی ہے کیونکہ مستقل سے مراد ایسی چیز ہے جو کسی دوسری چیز کے سہارے کے بغیر خود اپنی ذات میں قائم ہو۔(۳) تیسرے غیر تشریعی ظلی نبوت جو کسی سابقہ نبی کی اتباع میں اور اُس سے نور پا کر اور اُس کے اندر قت ہو کر علی صورت میں ملتی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بائی سلسلہ احمدیہ کی نبوت تھی جو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی میں حاصل کی۔یہ نبوت ظلی نبوت کہلاتی ہے اور ایسا نبی اگر ایک جہت سے نبی کہلاتا ہے تو دوسری جہت سے وہ اتنی بھی ہوتا ہے۔