ختم نبوت کی حقیقت — Page 15
۱۵ نبوت کی اقسام کے متعلق ہمارا اور ہمارے مخالفین کا نظریہ اس کے بعد جاننا چاہئے کہ ہمارے مخالفین کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان تینوں قسم کی نبوت گلی طور پر بند ہو چکی ہے۔اور آپ کے بعد کوئی پر ؛ شخص خواہ وہ کسی قسم کی نبوت کا حامل ہو قیامت تک نہیں آ سکتا۔یعنی اُمت محمدیہ کا کوئی فردخواہ وہ کتنا ہی کامل ہو ظلی طور پر بھی کمالات نبوت کا وارث نہیں بن سکتا۔گو ہمارے مہربان مخالف اپنے ہی عقیدہ کے خلاف یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ( جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو سال قبل حضرت موسی کی شریعت کی خدمت کے لئے مستقل نبوت پاکر مبعوث ہوئے تھے۔) وہ کچھ عرصہ کے لئے اپنی سابقہ نبوت کے ساتھ اُمت محمدیہ کی اصلاح کے لئے دوبارہ تشریف لائیں گے۔اس کے مقابل پر جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ بے شک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلی دو قسموں کی نبوتوں کا دروازہ توکلی طور پر بند ہو چکا ہے یعنی اب نہ تو کوئی صاحب شریعت نبی آ سکتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت آخری شریعت ہے۔اور نہ بغیر شریعت کے ہی کوئی ایسا نبی آسکتا ہے جس نے مستقل حیثیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے آزاد رہ کر نبوت پائی ہو۔کیونکہ اس میں ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تامہ کاملہ کی ہتک ہے کہ کوئی شخص آپ کے فیض سے باہر رہ کر نبوت کے کمالات کا وارث بنے۔مگر تیسری قسم کا نبی جو ظلی اور امتی نبی کہلاتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے اور آپ کے فیض سے فیض پا کر اور آپ کے نور سے منور ہو کر آپ کی غلامی میں