ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 117 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 117

112 حضرت عمر میں تشریعی نبوت کا جو ہر موجود تھا! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلام میں حکمت یہ ہے کہ ایک طرف تو آپ خود صاحب شریعت نبی تھے اور اپنے ساتھ ایک نیا الہی قانون لائے تھے۔اور دوسری طرف تاریخ اور حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عمر” میں بھی قانون سازی کا مادہ غیر معمولی طور پر زیادہ تھا۔اور نہ صرف ان کی اپنی خلافت کا سارا زمانہ اس بات پر گواہ ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی حضرت عمر کے حالات زندگی اس بات کا واضح ثبوت پیش کرتے ہیں کہ حضرت عمر ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے مقنن تھے جن میں قانون سازی کا مادہ گوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کسی معاملہ میں حضرت عمر نے ایک رنگ میں مشورہ دیا اور دوسرے صحابہ نے دوسرے رنگ میں مشورہ دیا پھر جس طرح حضرت عمر نے رائے دی تھی اسی کے مطابق کلام الہی نازل ہوا۔( دیکھو بخاری و مسلم وزرقانی وغیرہ ) پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر میری جگہ کوئی اور شخص نبی بنا تو عمر بنتا تو اس میں یقینا حضرت عمر کی اسی مخصوص اور نمایاں صفت کی طرف اشارہ تھا اور مطلب یہ تھا کہ چونکہ اس زمانہ میں نئے قانونِ شریعت کی ضرورت تھی اِس لئے اگر میں نہ آتا تو میری جگہ عمر آ جاتا۔حضرت عمرہ میں قانون سازی کا وصف اتنا نمایاں تھا کہ بڑے بڑے یورپین مؤرخوں نے بھی اُن کی قابلیت اور کارناموں پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔پس نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دوسری حدیث جس میں آپ صراحت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو میری جگہ عمر ہو جاتا۔بلکہ حضرت عمرؓ کے اپنے حالات زندگی