ختم نبوت کی حقیقت — Page 116
حديث لا نبی بعدی کی تشریح پیش کرتے ہوئے ہم نے بتایا تھا کہ عربی زبان میں لفظ بعد کے معنی ظرف مکانی کی صورت میں یہ بھی ہوتے ہیں کہ ایک چیز کو چھوڑ کر اس کی جگہ کسی دوسری چیز کو اختیار کر لیا جائے۔جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايَتِهِ يُؤْمِنُونَ (سورہ جاثیہ آیت ۷) یعنی خدا اور اس کی آیات کو چھوڑ کر لوگ کس حدیث کو قبول کریں گے؟ بعد کے لفظ کا یہ محاورہ عربی زبان میں اس قدر عام اور معروف ہے کہ کسی مزید تشریح کا سوال نہیں۔اور حق یہ ہے کہ قرآن مجید کی شہادت کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت بھی نہیں۔پس اس تشریح کے ماتحت حديث لو كان بعدى نبى لكان عُمر کے یہ معنی بنتے ہیں کہ اگر میں نبی نہ بنتا تو میری جگہ عمرہ نبی بن جاتا۔اور یقینا یہی معنی صحیح اور درست ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ جیسا کہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ ایک حدیث کی امکانی غلط فہمی کو دوسری حدیث کے ذریعہ دُور فرما دیتے تھے آپ نے دوسری جگہ یہی حدیث ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ :۔دو لوْ لَمْ أَبْعَثْ فِيْكُمْ لَبُعِثَ عُمَرُ - ابن عدی حوالہ کنوز الحقائق جلد ۲ صفحه ۱۵۱) یعنی اے مسلما نو اگر میں تم میں مبعوث نہ ہوتا تو میری جگہ عمر مبعوث ہو جاتا۔“ اب ان دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھو تو معاملہ بالکل صاف ہو جاتا ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تشریح فرما دی ہے کہ جہاں میں نے یہ کہا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا وہاں میری مراد یہ ہے کہ اگر مجھے چھوڑ کر کوئی اور شخص نبی بنتا تو عمر بنتا۔