ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 118 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 118

۱۱۸ بھی اس بات پر گواہ ہیں کہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ یقینا حضرت عمرؓ کے اس مخصوص وصف قانون سازی کی طرف تھا جس میں وہ دوسرے تمام صحابہ سے ممیز وممتاز تھے۔صحابہ میں حضرت ابوبکر کا مقام سب سے افضل تھا ہماری اس تشریح کا مزید ثبوت یہ ہے کہ عام اوصاف کے لحاظ سے صحابہؓ میں بالاتفاق سب سے بڑا درجہ حضرت ابو بکر کا مانا گیا ہے۔حتی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ابوبکر سب صحابہ میں افضل تھے۔چنانچہ اس کے متعلق ایک حدیث او پر درج کی جا چکی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری اُمت میں سب سے افضل درجہ ابو بکر کا ہے سوائے اس کے کہ بعد میں کوئی نبی پیدا ہو جائے۔تو پھر باوجود اس کے حضرت ابوبکر کو ترک کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا اس بات کی یقینی اور قطعی دلیل ہے کہ یہاں حضرت عمرؓ کے کسی ایسے وصف کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جس میں وہ جزوی فضیلت کے طور پر حضرت ابو بکر سے بھی بڑھے ہوئے تھے اور وہ یہی قانون سازی کی صفت تھی جس کا ثبوت وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دے چکے تھے اور ان کی خلافت کے ایام میں یہ صفت اور بھی زیادہ نمایاں ہو کر چمکی۔پس جس طرح بھی دیکھا جائے اس حدیث کے صرف یہی معنی ثابت ہوتے ہیں کہ یہاں بعد کے لفظ سے زمانہ کے لحاظ سے بعد مراد نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ اگر مجھے چھوڑ کر نبوت کسی اور کو ملتی تو عمر کوملتی کیونکہ اس میں ایک شارع نبی بننے کا جو ہر موجود تھا۔