ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 172 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 172

کی بحث نہیں ) ختم نبوت کے متعلق کون سا نظریہ درست اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان کے زیادہ مطابق ہے؟ آیا وہ نظریہ درست ہے جو جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے یا کہ وہ نظریہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مطابق ہے جو اس زمانہ میں ہمارے مخالف مولوی صاحبان پیش کرتے ہیں؟ سو اس کے متعلق ہمیں کسی لمبی چوڑی بحث میں جانے کی ضرورت نہیں۔بلکہ دونوں عقیدوں کو ایک دوسرے کے سامنے رکھ کر ایک یکجائی نظر ڈالنا کافی ہے۔لہذا ذیل کے متقابل کالموں میں ہر دو فریق کے عقیدے درج کئے جاتے ہیں ناظرین خود اپنے دل سے فتویٰ لیکر فیصلہ کریں کہ حق کس کے ساتھ ہے۔مگر ضروری ہے کہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر ان متقابل کالموں پر نظر ڈالیں کہ یہ دین کا سوال ہے۔جس میں انتہائی سنجیدگی سے کام لینے کی ضرورت ہے:۔اس زمانہ کے دوسرے مسلمانوں کا عقیدہ جماعت احمدیہ کا عقید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ النبیین ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔اور آپ نبیوں کی مہر ہیں۔اور آپ میں نبوت کے کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ گلی طور کمالات انتہاء کو پہنچ چکے ہیں اسلئے آپ پر بند ہو چکا ہے۔اور آئندہ کوئی شخص کسی کے بعد براہ راست نبوت پانے کا صورت میں نبوت کا انعام نہیں پاسکتا۔جو دروازہ بند ہے کیونکہ اب ہر انعام کا نبی آنے تھے وہ آپ سے پہلے آچکے اور حصول آپ کی غلامی کے ساتھ وابستہ کر آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔نہ آپ کی دیا گیا ہے۔پس آپ کے مقام ختم نبوت اُمت میں اور نہ آپ کی اُمت سے باہر کی وجہ سے خُدائی انعاموں کی نہر بند