ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 171 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 171

پھر اپنے مخصوص دعوی مسیحیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت * میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا!! (در ثمین) یعنی یہ زمانہ ایسا تھا کہ اس زمانہ کی لادینی اور مادیت اور دجالی فتنوں اور اسلام کے خلاف حملوں کی وجہ سے کوئی عام مصلح کافی نہیں تھا بلکہ ایک ایسے نائب رسول کی ضرورت تھی جو مثیل مسیح بن کر خدمت دین کے لئے مبعوث کیا جاتا اور جس طرح حضرت موسی کے بعد حضرت مسیح ناصری آئے تھے اسی طرح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے دین کی خدمت کے لئے ایک مسیح کی ضرورت تھی۔سو جب زمانہ زبانِ حال سے ایک مسیح کو پکار رہا تھا تو یقینا اگر اس وقت میں نہ آتا تو کوئی دوسرا نائب رسول صحیح مبعوث کیا جاتا۔خلاصہ یہ کہ زمانہ کی ضرورت اور وقت کی شہادت ایک عظیم الشان مصلح کی متقاضی تھی جو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے نور پا کر اور آپ کے فیض سے فیض حاصل کر کے دنیا کی اصلاح کرے اور اسی کا دوسرا نام خلی اور امتی نبی ہے۔کیونکہ وہ ہمارے رسولِ پاک کا رُوحانی فرزند اور آپ کے شجر طیبہ کی شاخ اور آپ ہی کا حصہ ہے۔کاش ہمارے بھائی اس نکتہ کو سمجھیں ! کون سا عقیدہ رسول پاک کی شان کے زیادہ مطابق ہے؟ اس کے بعد میں عقلی دلائل میں سے آخری دلیل کو لیتا ہوں جو اس پہلو سے تعلق رکھتی ہے کہ عقلی دلائل کے لحاظ سے ( کیونکہ اس جگہ عقلی دلائل کی بحث ہے قرآن و حدیث