ختم نبوت کی حقیقت — Page 83
۸۳ نبی کی نبوت کے سہارے پر قائم نہیں ہوتی بلکہ حصول نبوت کے لحاظ سے آزاد ہوتی ہے۔جیسا کہ مثلاً حضرت داؤد اور حضرت عیسی کی نبوت تھی۔اور تیسرے ظلی نبوت جس کے ساتھ نہ تو کوئی نئی شریعت ہوتی ہے اور نہ ایسا نبی آزاد صورت میں نبوت حاصل کرتا ہے۔بلکہ یہ نبوت سابقہ تشریعی نبوت کی ظل اور عکس ہوتی ہے اور گویا اسی کے سہارے پر قائم ہوتی اور اُسی کی خدمت کے لئے آتی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے نبی یعنی مثیل مسیح کے لئے مقدر تھا۔پس اگر بالفرض مبشرات کے لفظ کو عام معنوں میں لیا جائے تو تب بھی اس حدیث کا منشا صرف یہی سمجھا جائے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا بلکہ صرف مبشرات ومنذرات والا نبی آ سکتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خوشہ چین بن کر اور آپ ہی کے ٹورنبوت سے فیض پا کر نبی بنے۔مبشرات کی کثرت ہی کا دوسرا نام نبوت ہے حق یہ ہے کہ مبشرات اور منذرات ( کیونکہ مبشرات کے ساتھ منذرات کا وجود لازم و ملزوم ہے ) کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ جب یہی مبشرات و منذرات اپنی کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے کثرت اور کمال کے ساتھ کسی شخص کو عطا کئے جائیں تو ایسا شخص نبی کہلاتا ہے۔ہاں معمولی پیمانے پر اُن کا وجود بیشک کم و بیش سب مومنوں میں پایا جاتا ہے۔لیکن جس طرح مثلاً ایک روپے کا مالک مالدار نہیں کہلاتا۔اسی طرح معمولی طور پر مبشرات ومنذرات کی نعمت سے حصہ پانے والا شخص بھی نبی نہیں کہلا سکتا۔بلکہ صرف وہی شخص نبی کہلاتا ہے جسے یہ نعمت خدا کی طرف سے غیر معمولی کثرت اور غیر معمولی کمال کے