ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 84 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 84

۸۴ ساتھ عطا ہوئی ہو۔پس حقیقہ صرف کثرت اور قلت کا فرق ہے ورنہ مبشرات ومنذرات کی کثرت ہی کا دوسرا نام نبوت ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ فَمَنْ أَمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (سوره انعام آیت ۴۹) د یعنی ہم اپنے سب رسولوں اور نبیوں کو صرف مبشرات اور منذرات ہی کا حامل بنا کر بھیجتے ہیں۔اور پھر جو لوگ ان پر ایمان لاتے اور اپنی اصلاح کرتے ہیں وہ خُدا کی طرف سے ہر خوف وخون سے امن میں 66 آجاتے ہیں۔“ اس قرآنی آیت سے واضح طور پر ثابت ہے کہ جہاں تک نفس نبوت کا تعلق ہے مبشرات و منذرات کی کثرت ہی کا دوسرا نام نبوت ہے اور باقی چیزیں مثلاً شریعت کا لانا یا مستقل حیثیت میں نبوت پانا یہ سب زائد با تیں ہیں جو ہر نبی میں پائی جانی ضروری نہیں۔بلکہ کسی نبی میں پائی جاتی ہیں اور کسی میں نہیں پائی جاتیں۔چنانچہ بوقت کی تعریف کے متعلق خود حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔یہ تمام بد قسمتی دھوکے سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں میں غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خُدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ کسی صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۳۸)