ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 52 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 52

۵۲ او پر بیان کئے ہیں؟ ضد کا معاملہ جُدا گانہ ہے مگر ہر انصاف پسند انسان کا دل بولے گا اور اس کے وجدان کی تاریں اس کے دل کے دامن کو کھینچ کھینچ کر پکاریں گی کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان انہی معنوں میں ہے جو ہم نے لکھے ہیں۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ع کرشمہ دامن دل میکشد که جا این جا است الغرض خاتم النبیین کی آیت نے بھی جو گو یا ہمارے مخالفین کے نظریہ کا بنیادی پتھر سمجھا جاتا ہے ہمارے حق میں ہی ڈگری دی کیونکہ اس آیت سے بھی نبوت کا دروازہ بند ہونے کی بجائے یہی ثابت ہوا کہ ہمارے آقا (فداہ نفسی ) صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بلند مقام ہے کہ آپ کے شاگرد اور خادم بھی آپ کی قوت قدسیہ کے طفیل اور آپ کی مہر تصدیق کے ساتھ نبوت کے کمالات حاصل کر سکتے ہیں۔یہ اس لئے ہے کہ آپ خدا کے فضل سے افضل ترین نبی ہیں اور افضل ترین وبجود کے نزول کے بعد تمام دوسرے وجود اس کے نیچے آجاتے ہیں۔اور پھر یہ اس لئے ہے کہ آپ نعوذ باللہ ابتر نہیں بلکہ الکوثر کے مالک ہیں۔اور روحانی فیوض کا ہر چشمہ آپ کے مبارک وجود میں سے پھوٹتا ہے اور اولین و آخرین کی گردنیں آپ کے سامنے جھکتی ہیں۔اسی لئے آپ فرماتے ہیں کہ اناسید ولد آدم ولا فخر۔یعنی میں کل نسل آدم کا سردار ہوں۔مگر مجھے اس پر فخر نہیں کیونکہ یہ سب میرے خدا کا فضل ہے۔اور پھر فرماتے ہیں:۔لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِى - الیواقیت والجواہر مرتبہ امام شعرانی جلد ۲ صفحه ۲۰) و یعنی اگر اس وقت موسیٰ اور عیسی بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔“