ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 51 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 51

۵۱ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین اس بناء پر رکھا گیا ہے کہ نہ آپ سے پہلے کوئی نبی فیض رسانی اور کمالات میں آپ کا ہم مرتبہ ہوا ہے اور نہ آپ کے بعد ہوسکتا ہے۔“ آیت خاتم النبیین کے متعلق بحث کا خلاصہ! خلاصہ کلام یہ کہ خواہ خاتم کا لفظت کی زبر سے سمجھا جائے جیسا کہ پاکستان اور ہندوستان اور دوسرے ممالک کے کروڑوں نسخوں میں ت کی زبر سے ہی لکھا جاتا ہے اور خواہ اسے ت کی زیر سے سمجھا جائے جیسا کہ بعض تفسیر کی کتابوں میں شاذ کے طور پر بیان ہوا ہے ہر دو صورت میں اس آیت سے نبوت کا بند ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہوتا بلکہ ت کی زبر سے خاتم کے معنی نبیوں کی مُہر کے ہیں۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیقی مہر کے بغیر نبی نہیں بن سکتا۔بلکہ وہی شخص نبی بن سکتا ہے جو آپ سے فیض یافتہ اور آپ کا شاگرد اور خادم ہو۔اورت کی زیر سے خاتم کے معنی کمالات نبوت میں انتہائی کمال پیدا کرنے والے کے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ افضل ترین نبی ہیں۔اور آپ کے مقام کی بلندی کوکوئی دوسرا شخص نہیں پہنچ سکتا۔اس واضح تشریح کے مقابل پر ہمارے مخالفین کے ہاتھ میں کیا ہے؟ اس سوال کا جواب خود اُن کے اُس ترجمہ سے ظاہر ہے جو وہ اس آیت کا کرتے ہیں یعنی :۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی مرد کے جسمانی باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور ایسے نبی ہیں جس کے بعد نبوت کا انعام بند ہو گیا ہے۔کیا ان ادنی اور پست معنوں کو ان اعلیٰ اور ارفع معنوں سے کوئی دور کی بھی نسبت ہے جو ہم نے