ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 53 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 53

۵۳ اللہ اللہ یہ کس شان کا نبی ہے اور اس کا قدم کس بلندی پر ہے کہ نہ صرف گذشتہ رسول بلکہ اس زمانہ کا مثیل مسیح بھی جس کے ہاتھ پر اسلام کے دُوسرے دور کا غلبہ مقدر ہے اس کے خادموں کے زمرہ میں کھڑے ہیں۔اور اس کی مقدس مہر اگلوں اور پچھلوں دونوں کی تصدیق کا کام دے رہی ہے! اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكَ وَسَلِّمْ حدیث کی رُو سے مسئلہ ختم نبوت کاحل مسئلہ ختم نبوت کے متعلق قرآن مجید کی رُو سے مختصر مگر خدا کے فضل سے جامع تبصرہ پیش کرنے کے بعد اب میں حدیث کی طرف آتا ہوں۔جیسا کہ اس رسالہ کے شروع میں بتایا جا چکا ہے کوئی حدیث خواہ بظاہر کتنے ہی اعلیٰ مقام پر فائز ہو قرآن مجید کے مقابل پر اس کا مقام بہر حال خطتنی ہے لیکن چونکہ مجھے اپنے مخالف خیال اصحاب کی تسلی کرانی مقصود ہے اور اس مختصر سے رسالہ میں مفصل بحث کی گنجائش بھی نہیں اس لئے میں اس جگہ مختلف حدیثوں کے متعلق صحیح اور ضعیف کی بحث میں نہیں جاؤں گا بلکہ دلیل کی خاطر ان سب حدیثوں کو جو اس جگہ بیان کی جائیں گی صحیح فرض کر کے ان کی مناسب تشریح پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔وما توفیقی الا باللہ العظیم - سب سے پہلے میں اُن مثبت قسم کی حدیثوں کو لیتا ہوں جن کی رُو سے ہمارے