ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 47 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 47

۴۷ سے پیدا ہوسکتا ہے کہ شاید حمید بہادر نہ ہو۔اسے لیکن کے لفظ کے بعد بہادر کا لفظ استعمال کر کے دُور کیا گیا ہے۔اسی طرح مثلاً کہتے ہیں کہ ” سب لوگ اُٹھ گئے لیکن سعید نہیں اُٹھا۔اب اس جگہ سب لوگوں کے اُٹھ جانے سے یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ شاید کوئی شخص بھی بیٹا نہ رہا ہو تو اس شبہ کو لیکن کے استعمال کے بعد دوسراجُملہ بول کر دُور کیا گیا اور بتایا گیا کہ گو باقی سب لوگ اُٹھ گئے ہیں لیکن سعید نہیں اُٹھا اور ابھی تک بیٹھا ہوا ہے۔الغرض لیکن کا لفظ وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں کسی امکانی شبہ کا تدارک کرنا مقصود ہو یا کسی بات کے بعد اس کے مقابل کی بات بیان کرنی مد نظر ہو۔اس قسم کے استعمال کو عربی محاورہ میں استدراک کہتے ہیں اور لغت کی ہر کتاب میں لکھا ہے کہ لکین کا لفظ استدراک کے لئے آتا ہے۔اب اچھی طرح غور کر کے سمجھ لو کہ اگر خاتم النبیین کے معنی نبیوں کوختم کرنے والا کئے جائیں جیسا کہ ہمارے مخالفین کرتے ہیں تو پھر اس آیت میں لکین کا لفظ بالکل بے معنی ہو جاتا ہے۔اور یہ آیت نعوذ باللہ ایک مہمل کلام بن جاتی ہے۔کیونکہ اس صورت میں آیت کے معنی یہ بنتے ہیں کہ :۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ تو نہیں لیکن وہ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔اب غور کرو کہ خدائے علیم وحکیم تو الگ رہا کیا کوئی معمولی عقل کا آدمی بھی اس قسم کا مل کلام کر سکتا ہے جس میں لیکن کے لفظ سے پہلے کا جملہ اور لیکن کے بعد کا جملہ ایک ہی مفہوم کے حامل ہوں۔اور سابقہ شبہ کو دور کرنے کی بجائے اُسے اور بھی زیادہ مضبوط کر دیا جائے۔یہ تو اس قسم کا ختر و بن جاتا ہے کہ سارے لوگ اُٹھ گئے لیکن سعید بھی اُٹھ گیا۔کیا