ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 48 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 48

۴۸ کوئی سمجھ دار انسان ایسا بے معنی کلام کر سکتا ہے؟ کیا قرآن مجید جیسی فصیح وبلیغ کتاب اس قسم کے مہمل جملہ کی حامل ہوسکتی ہے؟ خدارا غور کرو اور انصاف سے کام لیکر بتاؤ کہ کیا لیکن کا لفظ ان معنوں کو برداشت کرتا ہے جو ہمارے مخالف بیان کرتے ہیں؟ اس کے مقابل پر جو معنی اس آیت کے ہم کرتے ہیں اس میں لکین کا لفظ پوری طرح مطابقت کھاتا ہے اور کوئی پیچیدگی نہیں رہتی کیونکہ ہمارے معنی یہ ہیں کہ:۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ تو نہیں ہیں لیکن وہ مومنوں کے روحانی باپ ہیں بلکہ نبیوں تک کے روحانی باپ ہیں۔ان معنوں کے لحاظ سے لکین کا لفظ اس آیت کے مفہوم میں اس طرح ٹھیک بیٹھتا ہے جس طرح کہ ایک اعلیٰ درجہ کی انگوٹھی میں اس کے صحیح ناپ کا نگینہ بیٹھا کرتا ہے اور کوئی رخنہ باقی نہیں رہتا۔خاتم کے لفظ کی تشریح اس آیت میں دوسرا خاص لفظ خاتم کا ہے۔یہ لفظ گو عام قرآت میں ت کی زبر سے درج ہے اور پاکستان کا ہر قرآنی نسخہ خواہ وہ احمدیوں کے ہاتھ میں ہے یا غیر احمدیوں کے ہاتھ میں اس لفظ کوت کی زبر سے ہی ظاہر کرتا ہے۔مگر یہ درست ہے کہ ایک شاذ قرات میں ت کی زیر بھی آئی ہے۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ خواہ کوئی سی صورت لے لی جائے اس آیت سے نبوت کا بند ہونا بہر حال کسی طرح ثابت نہیں ہوتا۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ لغت کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے ت کی زبر سے خائم کے معنی مہر کے ہوتے ہیں چنانچہ لغت کی مشہور کتاب تاج العروس میں لکھا ہے الخاتم ما يوضع على