ختم نبوت کی حقیقت — Page 46
۴۶ لکن کے لفظ کی تشریح گوعربی محاورہ کے لحاظ سے یہ دونوں معنی درست ہیں لیکن اوّل الذکر معنی یقیناً زیادہ صحیح اور آیت کے الفاظ اور شان نزول کے لحاظ سے زیادہ درست ہیں۔لیکن خواہ ان دو امکانی معنوں میں سے کوئی معنی لئے جائیں بہر حال موجودہ زمانہ کے غیر احمدی علماء کا استدلال درست ثابت نہیں ہوتا۔اور اس آیت سے یہ بات رکسی طرح مستنبط نہیں ہو سکتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ کھلی طور پر بند ہے۔در اصل اندرونی شہادت کے لحاظ سے اس آیت کی گنجی دولفظوں میں ہے۔ان میں سے ایک لکین کا لفظ ہے اور دوسرا خاتم کا لفظ ہے۔اور ان دولفظوں کی صحیح تشریح کے بغیر آیت کے اصل معنی سمجھ میں نہیں آسکتے۔لیکن کا لفظ عربی قواعد کے مطابق وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں کسی جُملہ یا فقرہ کے بعد اس کے مقابل کا مفہوم بیان کرنا مقصود ہو یا جہاں پہلے حملہ سے کوئی شبہ پیدا ہوتا ہو اور لکن کے ذریعہ دوسرا حملہ بیان کر کے اس شبہ کا ازالہ کیا جائے۔مثلاً اگر کسی جُملہ میں کوئی منفی مضمون بیان کیا گیا ہو تو لکین کے بعد اس کے مقابل کا مثبت مضمون بیان کرتے ہیں۔اور اگر کسی فقرہ میں کوئی مثبت مضمون مذکور ہو تولیکن کے بعد اس کے مقابل کا منفی مضمون لاتے ہیں۔اور چونکہ لکین کا لفظ اُردو زبان میں بھی تقریبا عربی والے مفہوم میں ہی استعمال ہوتا ہے اس لئے اس جگہ اس کی تشریح کے لئے اُردو کی مثالیں بیان کرنا کافی ہیں۔مثلاً اُردو میں کہتے ہیں کہ ”حمید بدن کا کمزور تو ہے لیکن بہادر ہے۔اب اس جملہ میں بدن کے کمزور ہونے کے مقابل پر لیکن کا لفظ استعمال کر کے بہادر کا لفظ رکھا گیا ہے۔اور اس طرح جو شبہ بدن کے کمزور ہونے کے تصور ،،