ختم نبوت کی حقیقت — Page 42
۴۲ کے بعد قیامت تک بہت سی نسلوں نے آنا تھا۔پس اٹھا یعنی اگر“ کا لفظ رکھ کر اس طرف تو جہ دلائی گئی ہے کہ آپ کے بعد ہر نسل کو آنے والے رسول کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔کیونکہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس نسل میں آجائے۔پس اگر“ کے لفظ میں شک کا اظہار مُراد نہیں۔بلکہ ہرنسل کو ہوشیار کرنا مراد ہے۔گویا کہ ہرنسل کو علیحدہ علیحدہ مخاطب کر کے کہا جارہا ہے کہ اگر تم میں آجائے یا اگر تم میں آجائے یا اگر تم میں آجائے۔ورنہ اگر ایما کے لفظ سے شک کا اظہار مُراد ہوتا یا اگر منشاء یہ ہوتا کہ کسی رسول نے آنا وانا تو ہے نہیں۔لیکن بالفرض اگر کوئی آجائے تو تم مان لینا تو یہ نعوذ باللہ ایک لغو کلام بلکہ ایک کھیل بن جاتا جو قرآن کی شان سے بالکل بعید ہے۔اور اگر یہ اعتراض ہو کہ اس آیت میں تو رسل کا لفظ ہے جو جمع کی صورت میں استعمال ہوا ہے مگر اُمتِ محمدیہ میں اس وقت تک صرف ایک ہی رسول آیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے ہمارے جلد باز بھائیو! ابھی دُنیا کی عمر ختم نہیں ہوئی۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ شاید آگے چل کر کوئی اور امتی نبی بھی آجائے۔علاوہ ازیں یہ بھی ایک عام قاعدہ ہے اور ہر زبان میں پایا جاتا ہے کہ جہاں کوئی بات بطور اُصول کے بیان کرنی ہو تو وہاں بعض اوقات واحد کا صیغہ چھوڑ کر جمع کا صیغہ استعمال کر لیتے ہیں خواہ مراد ایک ہی ہو اور پھر یہ خاص نکتہ بھی ضرور یادرکھنے کے قابل ہے کہ چونکہ حضرت مسیح موعود میں مختلف رسولوں کے بروزوں کا اجتماع ہوا ہے جیسا کہ آپ کے دعاوی کے تفصیلی مطالعہ سے ظاہر ہے لہذا آپ کی بعثت میں دراصل بہت سے رسولوں کی بعثت جمع ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف قرآنی آیت وَإِذَا الرُّسُلُ أُقتَتْ ( یعنی مختلف رسول ایک ہی وقت میں اکٹھے کئے جائیں گے ) میں اشارہ کیا گیا ہے۔مگر افسوس ہے کہ ہمارے اس مختصر مضمون میں ان