ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 43 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 43

۴۳ تصریحات کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔آیت خاتم النبیین کا بلند نظریة اب میں اس معرکۃ الآراء آیت کی طرف آتا ہوں جو گو یاختم موت کی بحث کا مرکزی نقطہ ہے اور دراصل یہی وہ آیت ہے جس کی غلط تشریح کی بناء پر ہمارے مخالفین نبوت کے دروازہ کو بند قرار دیتے ہیں۔مگر جیسا کہ ابھی ظاہر ہو جائے گا یہ آیت نبوت کا دروازہ بند کرنے کی بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بلند مقام پیش کر رہی ہے جسے گویا نبی تراش کہنا چاہئیے۔قرآن مجید فرماتا ہے:۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِين - دو (سورۃ احزاب آیت ۴۱) یعنی اے لوگو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد ( یعنی نرینہ اولاد) 66 کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الیقین ہیں۔" آیت خاتم النبیین کا شانِ نزول لیکن اس آیت کی تشریح پیش کرنے سے قبل اس کی شان نزول کا ذکر کرنا ضروری ہے تا یہ معلوم ہو کہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کس بناء پر اور کس تاریخی پس منظر کے پیش نظر خاتم النبیین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔سو جاننا چاہیئے کہ ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہی تشریف رکھتے تھے کہ قضاء الہی سے آپ کی ساری نرینہ اولا دجو حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھی فوت ہوگئی۔اس پر بد باطن کفار مکہ نے