ختم نبوت کی حقیقت — Page 41
زمانہ کے متعلق تو وہ خود قرآن شریف کھول کر اس آیت کے آگے پیچھے اچھی طرح نظر ڈال کر دیکھ سکتا ہے کہ کیا اس جگہ کسی گذشتہ قوم کے ذکر کا شائبہ تک بھی ہے؟ پھر اگر یہ ثابت ہو کہ یہ آیت آئندہ زمانہ کے لئے ہے نہ کہ کسی گذشتہ قوم کے لئے تو پھر ہر انصاف پسند انسان کا فرض ہے کہ وہ سوچے کہ کیا اس سے بڑھ کر اجراء نبوت کا کوئی ثبوت ہوگا کہ قرآن شریف خود بہ بانگ بلند فرما رہا ہے کہ اے آدم کے بیٹو! ہوشیار ہو کرشن لو کہ تم میں آگے چل کر بھی ہمارے رسول آسکتے ہیں۔مگر وہ بہر حال تمہیں میں سے ہو نگے اور تمہارے رشول کے تابع اور خوشہ چین رہیں گے۔دوستو اور بھائیو! خُدا کے لئے دیکھو اور سُنو کہ دین کا معاملہ کوئی کھیل نہیں ہے۔اس میں انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔پس خُدارا قرآن شریف کی اس آیت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرو کہ کیا اس میں گذشتہ زمانہ کا ذکر ہے یا کہ آئندہ زمانہ کا؟ اگر آئندہ کا ذکر ہے تو کیا اس میں رشولوں کی آمد کا وعدہ نہیں دیا گیا؟ اور پھر اگر یہ بات ثابت ہو کہ اس آیت میں آئندہ رسولوں کا وعدہ دیا گیا ہے تو حق و صداقت کی خاطر اسے قبول کرو کیونکہ قرآن سے بڑھ کر کوئی ہدایت نہیں۔اور قرآن کے انکار سے بڑھ کر کوئی شقاوت نہیں۔اٹھا کے لفظ کی تشریح اور اگر کسی شخص کو یہ خیال گزرے کہ اس آیت میں اما یعنی اگر“ کا لفظ رکھا گیا ہے اور جو بات اگر“ کے لفظ سے کہی جائے وہ یقینی نہیں ہوا کرتی بلکہ اس میں شک کا پہلو ہوتا ہے۔تو یہ ایک جہالت کا شبہ ہوگا۔کیونکہ اس جگہ اگر “ کا لفظ نعوذ باللہ شک کے اظہار کے لئے نہیں رکھا گیا بلکہ اس حکمت کے ماتحت رکھا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم