ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 19 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 19

19 ٹھہرایا گیا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمال نبوت صرف اس شخص کو مل سکتا ہے جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مُہر رکھتا ہو۔اور اس طرح وہ ( رُوحانی لحاظ سے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا اور آپ کا وارث ہو گا غرض اس آیت میں ایک طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ ہونے کی نفی کی گئی ہے اور دوسرے طور پر باپ ہونے کا اثبات کیا گیا ہے تا مخالفین کا وہ اعتراض جس کا ذکر اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ میں ہے دُور کیا جائے۔ماحصل اِس آیت کا یہ ہوا کہ نبوت گو وہ بغیر شریعت کے ہو اس طرح پر تو ممتنع ہے کہ کوئی شخص براہِ راست مقام نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغ محمدی سے مکتب اور مستفاض ہو۔“ پھر فرماتے ہیں:۔ریویو بر مباحثہ چکڑالوی و اہلحدیث صفحه ۷،۶) " خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی مُہر ہیں ) آپ کی مہر کے بغیر کسی نبوت کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔جب (کسی کاغذ پر مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں۔“ (الحکم ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء)