ختم نبوت کی حقیقت — Page 18
۱۸ حضرت مسیح موعود کی طرف سے ختم نبوت کی تشریح اس حلفی دعوے کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے تاقیامت ان معنوں میں کوئی نبی نہیں جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وحی پاسکتا ہو۔۔۔۔۔۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔اسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی وجہ سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں۔جن کی تکمیل نفوس بذریعہ متابعت کی جاتی ہے اور وحی الہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔جیسا کہ وہ جلشانہ فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ (سورۃ احزاب) یعنی محمد رسول اللہ صلعم تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ اور خاتم الانبیاء ہے۔اب ظاہر ہے کہ لاکن کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارک مافات کے لئے (استعمال ہوتا ہے) سو اس آیت کے پہلے حصہ میں جو امرفوت شدہ قرار دیا گیا ہے یعنی جس امر کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی ہے وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔سولا کن کے لفظ کے ساتھ اِس فوت شدہ امر کا اس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء