ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 163 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 163

۱۶۳ کر کے بھیجا جائے۔چنانچہ امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں:۔من قال بسلب نبوّته كفر حقًا فانه نبى لا يذهب عنه وصف (بحوالہ بنج الکرامه صفحه ۴۳۱) النبوة - یعنی جس شخص نے حضرت عیسی کے متعلق یہ کہا کہ وہ آخری زمانہ میں نبوت سے معزول ہو کر آئیں گے وہ پیکا کا فر ہے کیونکہ حضرت عیسی بلا ریب خدا کے ایک نبی تھے اور یہ نبوت کا وصف اُن سے کسی طرح جلد انہیں ہو سکتا۔“ پس جب تک کہ تمام مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح" کا نزول مقدر ہے اور پھر اس بات پر بھی سب مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ مسیح نبوت کے مقام پر فائز ہوکر آئے گا تو اس کا یہ طبعی اور منطقی نتیجہ بھی لازما قبول کرنا ہوگا کہ تمام مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نبی کے وجود کو تسلیم کرتے آئے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک رنگ میں نبوت کا دروازہ کھلا ہونے پر صرف خواص اُمت ہی کی شہادت نہیں بلکہ مسلمانوں کے بچہ بچہ کی بھی شہادت ہے۔عزیز و اور دوستو سوچو اور غور کرو کہ ایک طرف تو سب مسلمان اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں مسیح کے نزول کی پیشگوئی فرمائی تھی۔اور دوسری طرف وہ اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ آنے والا مسیح نبوت کے مقام سے معزول ہو کر نہیں آئے گا بلکہ نبی ہونے کی حیثیت میں نازل ہوگا تو ان دونوں باتوں کا نتیجہ اس کے سوا کیا نکلتا ہے کہ سب مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نبی کے قائل ہیں؟ وھو المراد۔اگر یہ کہا جائے کہ دوسرے مسلمان بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نبی کے قائل ہیں۔مگر یہ نبی وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو سال پہلے نبوت