ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 162 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 162

۱۶۲ ختم نکات کی حقیقت پیشگوئی کو اتنی شہرت حاصل ہے کہ اس سے زیادہ شہرت خیال میں نہیں آسکتی اور خود ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پیشگوئی پر اتنا یقین تھا اور آپ اس پر اتنا زور دینا چاہتے تھے کہ آپ نے اسے خدا کی قسم کھا کر بیان کیا ہے۔چنانچہ حدیث کی صحیح ترین کتاب بخاری میں آپ فرماتے ہیں :۔والذی نفسی بیده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكمًا عدلًا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية۔(صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب نزول عیسی بن مریم ) و یعنی مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ضرور ضرور مسیح ابن مریم نازل ہوگا۔وہ تمام دینی معاملات میں حکم بن کر فیصلہ کر دیگا۔اور اس کا فیصلہ حق و انصاف کا فیصلہ ہوگا۔وہ صلیبی فتنہ کو پاش پاش کر دیگا۔اور خنزیری پلیدیوں کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔اور وہ جزیہ کو بھی موقوف کر دے گا۔“ حضرت عیسی اپنی نبوت کے ساتھ نازل ہونگے یہ وہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جو نزولِ مسیح کے متعلق اسلام میں پائی جاتی ہے۔اور گو جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اس پیشگوئی میں ایک مثیل مسیح کے نزول کی پیشگوئی ہے نہ کہ اصل مسیح ابن مریم کی۔لیکن موجود الوقت مسلمانوں کے تمام دوسرے فرقے یقین رکھتے ہیں کہ وہی مسیح ناصری دوبارہ دنیا میں نازل ہوگا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سوسال پہلے موسوی سلسلہ میں گزر چکا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ یہ مسیح اپنی نبوت کے ساتھ آئیگا۔اور ایسا نہیں ہوگا کہ وہ نبوت کے مقام سے معزول