ختم نبوت کی حقیقت — Page 164
۱۶۴ کے منصب پر فائز ہوا تھا۔اس لئے اُس کا آنا ختم نبوت میں کوئی رخنہ نہیں پیدا کرتا۔لیکن کسی بعد میں پیدا ہونے والے شخص کا نبی بنا ضرور رخنہ پیدا کرتا ہے۔تو میں کہوں گا کہ اے ہمارے بھٹکے ہوئے بھائیو خدا آپ کی آنکھیں کھولے، یہاں پہلے پیدا ہونے یا بعد میں پیدا ہونے کا سوال نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی کے طور پر ظاہر ہونے اور آپ کے بعد نبوت کے فرائض ادا کرنے کا سوال ہے۔پس خواہ مسیح ناصری پہلے ہی پیدا ہوا لیکن بہر حال آپ لوگوں کے عقیدہ کے مطابق وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دُنیا میں ظاہر ہو کر نبوت کے فرائض سرانجام دے گا۔لہذا اگر نبوت کا دروازہ من کلّ الوجوہ بند ہے تو اُس کا آنا بہر صورت ختم نبوت کے خلاف ہے۔کاش تم سمجھو! بلکہ حق یہ ہے کہ ایسے نبی کا آنا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے نہیں ہے اور نہ اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی اور پیروی میں اور آپ کی فیض رسانی سے نبوت کا منصب پایا ہے اسلام کے تمام نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیتا ہے۔اور نہ تو ختم نبوت باقی رہتی ہے۔اور نہ ہی ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا آخر الانبیاء ہونا درست ٹھہرتا ہے۔مگر اس کے مقابل پر آپ کے شاگردوں اور رُوحانی فرزندوں میں سے کسی شخص کا آپ کے فیض کی برکت سے اور آپ کے ٹور سے ٹور پا کر نبوت کے مقام پر فائز ہونا ہرگز کوئی رخنہ پید انہیں کرتا بلکہ اس سے آپ کی ارفع شان کا ثبوت ملتا ہے کہ کس طرح آپ کے رُوحانی سورج نے آپ کے بعد ایک روحانی چاند پیدا کر کے دُنیا کی تاریکی کے زمانہ میں روشنی کا سامان مہیا کر دیا۔اللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلِّمْ *