ختم نبوت کی حقیقت — Page 160
17۔وہی بات عرض کریگا جو اس رسالہ میں کئی جگہ عرض کر چکا ہے کہ اے ہمارے بھولے بھالے بھائیو! خدا تمہیں سمجھ عطا کرے ہم نے یہ حوالہ اس غرض سے ہرگز پیش نہیں کیا کہ مولانا موصوف کے نزدیک کوئی نبی آنے والا ہے۔بلکہ صرف اس غرض سے پیش کیا ہے کہ اُن کے نزدیک آیت خاتم النبین اور حدیث لا نبی بعدی کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ” نبی آسکتا ہے۔پس یہاں کسی کے آنے کا سوال نہیں بلکہ آ سکنے کا سوال ہے۔اور اس سوال کے متعلق یہ حوالہ بالکل واضح اور صاف ہے۔کاش ہمارے مہربان مخالف جلد بازی کی بجائے صبر وسکون کے ساتھ غور کرنے کی عادت پیدا کریں۔اب میں خدا کے فضل سے وہ حوالے ختم کر چکا ہوں (اور یہ حوالے تعداد میں دن عدد ہیں ) جو میں ختم نبوت کی بحث کے تعلق میں مثال کے طور پر اس جگہ پیش کرنا چاہتا تھا۔اور جیسا کہ ہمارے معزز ناظرین نے دیکھا ہے۔میں نے یہ حوالے اسلامی تاریخ کے ہر زمانہ سے پیش کئے ہیں اور ابتدائی اور وسطی اور آخری زمانہ میں سے کوئی زمانہ بھی ایسا نہیں چھوڑا جس میں سے کسی نہ کسی بزرگ کی شہادت نہ پیش کی ہو۔سب سے پہلا حوالہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا ہے جو بالکل ابتدائی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے جو گویا صحابہؓ کا زمانہ تھا اور سب سے آخری حوالہ اُس زمانہ کا ہے جس میں ہماری جماعت کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا سے حکم پاکر سلسلہ احمدیہ کی بنیا د رکھی۔میں یہ دعوئی ہرگز نہیں کرتا کہ صحابہ کرام کے زمانہ کے بعد سب مسلمانوں کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد غیر تشریعی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو پھر اختلاف کا کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں اور میں نے مضبوط حوالوں کے ذریعہ اس