ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 161 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 161

۱۶۱ بات کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا ہے کہ اسلامی تاریخ کے ہر زمانہ میں کوئی نہ کوئی مسلمان بزرگ اس عقیدہ کا برملا اظہار کرتا رہا ہے کہ ہمارے رسول پاک کی ختم نبوت کسی غیر تشریعی نبی کی بعثت کے رستہ میں روک نہیں ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ حضرت خاتم النبیین سید ولید آدم (فدا فسی) کے بعد انوار نبوت کا رستہ پہلے سے بھی زیادہ وسیع ہو کر کھل گیا ہے۔وهو المراد جمہور مسلمانوں کی متفقہ شہادت یہاں تک تو میں نے صرف خاص خاص بزرگوں کے اقوال پیش کئے ہیں لیکن اب میں خدا کے فضل سے بتاتا ہوں کہ ایک لحاظ سے مسلمانوں کا ہر فرد اور اُن کا بچہ بچہ اس عقیدہ پر ایمان لاتا رہا ہے کہ ختم نبوت کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کم از کم ایک غیر تشریعی نبی مسلمانوں میں ضرور آنے والا ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے اسلام میں یہ پیشگوئی پائی جاتی ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت عیسی نازل ہوں گے۔اور اُن کے ذریعہ اسلام کوغیر معمولی طاقت حاصل ہوگی اور دین محمد ہی تمام دوسرے دینوں پر غالب آ جائے گا۔اور دجال قتل کیا جائے گا۔اور صلیب توڑی جائے گی۔اور کا فر مغلوب و مقہور ہو جائیں گے۔اور اندرونی اختلافات کا سچا سچا فیصلہ کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔یہ پیشگوئی اجمالاً قرآن مجید میں (سورہ نورآیت ۵۶ ) اور تفصیلاً حدیث کی ہر کتاب میں درج ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیشگوئی پر اس شنڈ ونڈ کے ساتھ زور دیا ہے اور اسے اس کثرت اور تواتر کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ اسلامی پیشگوئیوں میں اسے گویا نمبر لا حاصل ہو چکا ہے۔اور مسلمانوں کا بچہ بچہ اس سے واقف ہے اور اس