ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 159 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 159

موصوف فرماتے ہیں:۔۱۵۹ عوام کے مخیال میں تو رسول اللہ صلعم کا قائم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ معنی انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد ہے۔اور آپ کسب میں آخری نبی ہیں۔مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخیر زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں۔پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ و خاتم النبین فرما نا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟ ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہیئے اور اس مقام کو مقامِ مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخر زمانی صحیح ہوسکتی ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اہلِ اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی۔“ پھر اسی کتاب میں دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ:۔66 تحذیر الناس مطبوعہ سہارنپور صفحہ نمبر ۳) اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدسی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“ ( تحذیر الناس صفحہ ۲۸) کیا علماء دیو بندا اپنے محترم بانی کے اس حوالہ پر غور فرمائیں گے؟ کیا وہ ختم نبوت کی تشریح میں اُسی وسعت قلب اور وسعتِ نظر سے کام لیں گے جس سے اُن کے قابلِ احترام بزرگ نے کام لیا ہے؟ اور اگر اس جگہ کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ اس حوالہ میں تو حضرت مولا نا نانوتوی نے ”اگر “ اور ”بالفرض“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں جو شک پر دلالت کرتے ہیں۔یا یہ کہ کسی دوسری جگہ مولانا موصوف نے اس قسم کا خیال بھی ظاہر فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی نہیں تو اس شبہ کے جواب میں یہ خاکسار