ختم نبوت کی حقیقت — Page 158
۱۵۸ ختم نکات کی حقیقت حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ حوالہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔حضرت شاہ صاحب موصوف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس چیز کا دروازہ بند قرار دیتے ہیں وہ صرف نئی شریعت کا نزول ہے اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔اور ہم یہ بھی ثابت کر چکے ہیں کہ ہر نبی کے لئے شریعت کا لانا ضروری نہیں ہوتا۔کیونکہ جیسا کہ حضرت محی الدین ابن عربی نے فرمایا ہے شریعت حجز و نبوت ہے نہ کہ عینِ نبوت۔اور قرآنِ مجید اور تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ دنیا میں بہت سے نبی ایسے گزرے ہیں جو کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے بلکہ صرف سابقہ شریعت کی خدمت کے لئے مبعوث کئے جاتے تھے۔پس حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی کا یہ واضح حوالہ ہر اُس مسلمان کے لئے جو انہیں عزت کی نظر سے دیکھتا ہے ایک فیصلہ کن حوالہ ہے۔اور حضرت شاہ صاحب کا مقام یہ ہے کہ وہ خود تو الگ رہے اُن کا سارا خاندان اپنے علم وفضل کی وجہ سے بر عظیم پاک و ہند میں انتہائی عزت و اکرام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔پس چاہو تو اس شہادت کو قبول کرو۔حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کی شہادت اب ہم اُس زمانہ میں داخل ہوتے ہیں جو گویا ہمارا اپنا زمانہ ہے۔حتی کہ اس زمانہ کے بزرگوں کو دیکھنے والے کئی لوگ ابھی تک زندہ ہونگے۔اور چونکہ جو شہادت میں اس وقت پیش کرنے لگا ہوں وہ باوجود موجودہ زمانہ سے تعلق رکھنے کے حضرت مسیح موعود بائی سلسلہ احمدیہ کے دعوی سے چند سال پہلے کی ہے اس لئے اہل بصیرت کے نزدیک اس شہادت کو خاص وزن حاصل ہونا چاہئیے۔یہ شہادت مدرسۃ العلوم دیو بند کے نامور بانی حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی ( وفات ۱۸۸۹ عیسوی) کی ہے۔مولوی صاحب