ختم نبوت کی حقیقت — Page 157
۱۵۷ ہے؟ کیا ہم اس کے سوا کچھ اور کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے بیشک شریعت والی نبوت اور براہ راست حاصل ہونے والی مستقل نبوت کا دروازہ تو ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے مگر جو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی اور آپ کی پیروی کی برکت سے رُوحانی ورثہ کے طور پر ملتی ہے اس کا دروازہ ہرگز بند نہیں ؟ بلکہ یہ وہ نبوت ہے جس سے ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع شان اور بلند مقام کا ثبوت ملتا ہے کہ آپ کے خادم اور شاگرد بھی نبوت کا درجہ پاسکتے ہیں۔پس حضرت مجد دالف ثانی کی طرح ہم بھی ہر مسلمان سے یہی کہتے ہیں کہ هذا هو الحق فلا تكن من الممترين۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کا ارشاد اس کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی (وفات کا اھ ) کا زمانہ آتا ہے۔حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ بارھویں صدی ہجری کے مجد دمانے گئے ہیں اور پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کا بچہ بچہ ان کے وسیع علم وفضل کا معترف اور مدح خوان ہے۔حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں:۔ختم به النبيون أى لا يوجد بعده من يأمره الله سبحانه بالتشريع على الناس۔( تفہیمات الہبی تفهیم نمبر ۵۳) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا ربانی مصلح نہیں آسکتا جسے خدا تعالیٰ کوئی نئی شریعت دے کر مبعوث کرے۔“