ختم نبوت کی حقیقت — Page 133
۱۳۳ خلاصہ کلام یہ کہ تیس دجالوں والی حدیث میں صرف یہ خبر دی گئی تھی کہ تھیں جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے نہ یہ کہ کوئی سچا پیدا ہی نہیں ہوگا۔اور ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یہ تیس کذاب اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہو کر پورے ہو چکے ہیں۔اور ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری پیشگوئی کے مطابق وہ ربانی مصلح بھی آپ کا جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ لیس بینی و بینۂ نبی۔( یعنی میرے اور آنے والے مسیح کے درمیان کوئی اور نبی نہیں) تو اب اگر اس کے بعد بھی ہمارے بھائیوں کو اپنی قوم میں مزید دجالوں کا ہی انتظار رہے تو ان کے متعلق اس کے سوا کیا کہا جائے جو حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ:۔امروز قوم من نه شناسد مقام من روزے بگریہ یاد گند وقت خوشترم اب خُدا کے فضل و کرم سے اور اسی کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ یہ خاکسار مسئلہ ختم نبوت کے متعلق حدیثوں کی بحث ختم کر چکا ہے۔اور یہ ایک حسنِ اتفاق ہے کہ اس بحث میں چھ حدیثیں مثبت قسم کی ہیں اور چھ ہی منفی قسم کی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ان بارہ حدیثوں پر جو تبصرہ اوپر کی بحث میں کیا گیا ہے وہ خدا کے فضل سے ایک صاف دل انسان کی تسلی کے لئے بہت کافی وشافی ہے۔بلکہ اس بحث کے دوران میں ایسی اُصولی باتیں آگئی ہیں جن سے ہر سمجھدار شخص ان زائد حدیثوں کے مطالب بھی آسانی کے ساتھ حل کر سکتا ہے جن کا مضمون ان حدیثوں سے ملتا جلتا ہے۔مگر وہ اختصار کے خیال سے اس تبصرہ میں شامل نہیں کی گئیں۔اور قرآن مجید کی فرقانی ہدایت جوسب سے بالا اور سب پر حاکم ہے مزید برآں ہے۔لیکن جس طرح شورج کی روشنی آنکھوں کے