ختم نبوت کی حقیقت — Page 134
۱۳۴ ٹور کے بغیر بے سود ہے۔اسی طرح قرآن و حدیث کی روشنی بھی صرف اسی شخص کے کام آسکتی ہے جو اپنے دل میں پاک نیت اور تلاشِ حق کا نور رکھتا ہو۔پس قبل اس کے کہ میں اس مضمون کے اگلے حصہ کو شروع کروں میں اپنے ناظرین سے پھر دوبارہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ تقویٰ اللہ کو مد نظر رکھ کر اور سچائی کے طالب بن کر (خواہ یہ سچائی اُن کے موجودہ عقیدہ کے مطابق ہو یا کہ اس کے خلاف ) قرآن وحدیث کے دلائل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔کیونکہ ایمانیات کا سوال بہت نازک ہوتا ہے۔اور اس میں ذراسی ٹھو کر انسان کو خدا کی ناراضگی کا نشانہ بنا دیتی ہے۔پس عزیز و اور دوستو ! یہ مت خیال کرو کہ تمہارے موجودہ عقائد کیا ہیں۔یا تم نے اپنے باپ دادوں سے کیا ئنا ہے۔یا تمہارے مولوی کیا کہتے ہیں۔بلکہ اس بات کی طرف دیکھو کہ قرآن کیا ارشاد فرماتا ہے۔حدیث کیا فتویٰ دیتی ہے۔اور تمہارا نور قلب کیا ہدایت مہیا کرتا ہے اور ہمارے دلوں کا حال تو خُدا جانتا ہے کہ اخلاص اور محبت اور اشاعت حق کے جذبہ کے سوا ہمیں کوئی اور خیال نہیں۔ہمارے امام نے پہلے سے فرما رکھا ہے کہ :۔ہمیں کچھ کہیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہووے دل و جاں اُس پہ قرباں ہے 0000