ختم نبوت کی حقیقت — Page 132
۱۳۲ فرمائی تھی تو بالآخر آپ نے ایمانی غیرت اور مومنانہ جلال کے ساتھ فرمایا کہ:۔و بعض نیم ملا میرے پر اعتراض کر کے کہتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ خوشخبری دے رکھی ہے کہ تم میں تھیں دجال آئیں گے۔اور ہر ایک اُن میں سے نبوت کا دعوی کرے گا۔اس کا جواب یہی ہے کہ اے نادانو ! بدنصیبو! کیا تمہاری قسمت میں تیس دقبال ہی لکھے ہوئے تھے اور کوئی سچا مصلح تمہارے لئے مقدر نہیں تھا ) چودھویں صدی کا خمس بھی گزرنے پر ہے اور خلافت کے چاند نے اپنے کمال کی چودہ منزلیں پوری کر لیں جس کی طرف آیت والقمر قلّدته منازل بھی اشارہ کرتی ہے۔اور دُنیا ختم ہونے لگی مگر تم لوگوں کے دجال ابھی ختم ہونے میں نہیں آتے۔شاید وہ تمہاری موت تک تمہارے ساتھ رہیں گے۔اے نادانو ! وہ درقبال جو شیطان کہلاتا ہے وہ خود تمہارے اندر ہے۔اس لئے تم وقت کو نہیں پہچانتے۔آسمانی نشانوں کو نہیں دیکھتے۔مگر تم پر کیا افسوس کہ وہ جو میری طرح موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا اُس کا نام بھی خبیث یہودیوں نے دجال ہی رکھا تھا۔فالقلوب تشابهت اللهم ارحم ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی صفحہ ۷ ) اللہ اللہ! یہ کس سوز اور کس درد کا کلام ہے۔گویا اپنی قوم کی محرومی پر برسوں کا دبا ہوا جذبہ پھوٹ کر باہر آ گیا ہے۔مگر افسوس کہ مذاق اُڑانے والے پھر بھی سنجیدہ نہ ہوئے۔نہ ماننے والے پھر بھی نہ مانے۔سونے والے پھر بھی نہ جاگے اور قوم کی کشتی ایک بھنور سے نکل کر دُوسرے بھنور میں پھنستی چلی گئی۔