ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 120 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 120

۱۲۰ کہ اس حدیث میں حضرت عمرؓ کے ایک ایسے وصف کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا جس میں وہ جزوی فضیلت کے رنگ میں حضرت ابو بکر سے بھی بڑھے ہوئے تھے۔حديث ان النبوة قد انقطعت کی تشریح میرا یہ مضمون چونکہ زیادہ لمبا ہو گیا ہے اسلئے بقیہ احادیث کے متعلق صرف مختصر اشاروں پر اکتفا کرنے کی کوشش کروں گا۔لیکن میں امید کرتا ہوں کی اس وقت تک جو اصولی بحث او پر گزر چکی ہے وہ انشاء اللہ ہر عقل مند اور صاف دل انسان کے لئے کافی ہوگی کیونکہ اس اُصولی بحث کی مدد سے اُن ساری حدیثوں کو حل کیا جا سکتا ہے جو اِس مسئلہ کے متعلق ہمارے مخالفوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں حق تو یہ ہے کہ اوپر والی بحث میں قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کی جو اُصولی تشریح پیش کی گئی ہے اس میں خُدا کے فضل سے ایک ایسی ماسٹر کی لے یعنی عمومی کنجی آگئی ہے جس کے ذریعہ اس میدان کے ہر بند قفل کو کھولا جاسکتا ہے۔پس میں آئندہ صرف مختصر اشاروں پر اکتفا کر کے اپنے باقی ماندہ مضمون کو چند صفحوں میں ختم کرنے کی کوشش کروں گا وما توفیقی الا بالله العظيم - اب جاننا چاہئیے کہ اگلی حدیث جو اس مسئلہ کے تعلق میں ہمارے مخالف اصحاب کی طرف سے پیش کی جاتی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسُول بعدی ولا نبی ( یعنی اب رسالت اور نبوت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہیں آئے گا )۔اس حدیث کو پیش کر کے دعوئی MASTER KEY