ختم نبوت کی حقیقت — Page 121
۱۲۱ کیا جاتا ہے کہ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اعلان فرما دیا ہے کہ اب نبوت کا سلسلہ بند ہے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔لیکن ہر عقلمند انسان آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ اس حدیث میں ہرگز کوئی نیا مضمون بیان نہیں کیا گیا۔بلکہ بعینہ وہی مضمون ہے جو سابقہ حدیثوں میں مختلف طور پر بیان کیا جا چکا ہے۔پس جو تشریح حدیث لا نبی بعدی اور حدیث ائی آخر الانبیاء وغیرہ کے متعلق او پر پیش کی جا چکی ہے وہی یقینا اس حدیث کے لئے بھی کافی وشافی ہے۔اور کسی مزید تبصرہ کی ضرورت نہیں۔دراصل اس حدیث میں جو الرسالۃ اور النبوۃ کے الفاظ الف لام کی تخصیص کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں ان سے جیسا کہ رئیس المحد ثین علامہ ابن حجر نے حدیث لم يبق من النبوۃ الا المبشرات کے ماتحت تشریح کی ہے (دیکھو فتح الباری جلد ۱۲ صفحه ۳۰۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کی تشریعی نبوت مُراد ہے نہ کہ عام نبوّت۔چنانچہ اس حدیث کے آخر میں آپ نے خود فلا رسُول بعدی ولا نبی کے الفاظ بڑھا کر اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا ہے کہ یہاں بھی میری مراد وہی ہے جو لا نبی بعدی والی حدیث میں بیان ہو چکی ہے۔بہرحال اس حدیث میں سابقہ حدیثوں سے زائد قطعاً کوئی بات نہیں بلکہ بعینہ وہی مضمون ہے جو حدیث لا نبی بعدی اور ائی آخر الانبیاء وغیرہ میں بیان ہو چکا ہے۔یعنی یہ کہ آنحضرت صلی وسلم کی بعثت سے صرف تشریعی نبوت اور مستقل نبوت کا دروازہ بند ہؤا ہے نہ کہ ظلی نبوت کا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہی کا حصہ اور اسی کا عکس ہے نہ کہ کوئی غیر چیز۔اللہ علیہ و