ختم نبوت کی حقیقت — Page 119
119 خلاصہ یہ کہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد مبعوث ہونے کا سوال نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم مقامی میں مبعوث ہونے کا سوال ہے اور اس پر مندرجہ ذیل چار قطعی دلیلیں گواہ ہیں جن کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔(۱) بعد کا لفظ عربی زبان میں کثرت کے ساتھ اس معنی میں آتا ہے کہ ایک چیز کو چھوڑ کر دوسری چیز کو اختیار کیا جائے اور اس جگہ بھی بعد کے معنی یہی ہیں کہ اگر میری جگہ کوئی اور نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔(۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خود اپنی دوسری حدیث بھی اسی تشریح کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ اس دوسری حدیث میں صاف مذکور ہے کہ اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو میری جگہ عمر ہوتا۔(۳) حضرت عمرؓ کے حالات زندگی سے ثابت ہے کہ اُن میں قانون سازی کا وصف بہت ممتاز اور نمایاں تھا اور چونکہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم ایک صاحب شریعت نبی تھے اس لئے اس حدیث میں آپ کا یہی اشارہ تھا کہ چونکہ یہ شریعت کے نزول کا زمانہ ہے اس لئے اگر میں نہ مبعوث ہوتا تو میری جگہ عمر مبعوث ہو جاتا۔(۴) نہ صرف اُمت کے اجماع سے بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ارشاد کے ماتحت بھی صحابہؓ کی مقدس جماعت میں بحیثیت مجموعی سب سے افضل درجہ حضرت ابوبکر کا تھا۔پس اگر مطلق نبوت کا سوال ہوتا تو یقیناً اسکے حقدار حضرت ابو بکر تھے نہ کہ حضرت عمرؓ۔یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے