آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک — Page 48
محض اس وجہ سے بچپن میں وفات دے کہ بڑے ہو کہ اس کے انعامات کا وارث نہ بن جائے۔یہ تصور عقل کے خلاف اور خدا تعالیٰ کی نشان کریمی کے سخت منافی ہے۔اس ضمن میں حضرت امام علی قاری علیہ الرحمہ (بی اے کا استنباط اس زمانے کے علماء کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے حضرت امام علی قاری علیہ الرحمہ فقہ حنفیہ کے مشہور ائمہ میں سے ہیں۔آپ اپنی مشہور کتاب موضوعات کبیر کے مشت 19 پر اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے ہ فرماتے ہیں :۔فلا يناقض قوله خاتم النبيّن اذا المعنى انه لا يأتي نبي ينسخ ملته ولم يكن من امته ؛ یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول که رابراہیم زندہ رہتے تو صدیق نبی بنتے ) آیت خاتم النبیین کے منافض نہیں کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی نبی نہیں آسکتا ہو (اول) آپ کی ملت کی تنسیخ کرنے والا ہو یا (دوم) آپ کی امت میں سے نہ ہو۔علامه شهاب الدین احمد محبر المشيمي خاتمة الفقهاء والمحدثين (متوفی ۹۷۳ھ) نے الفتاوی الحدیثیہ میں خلیفۃ الرسول حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (شہادت نہ کی روایت دی حضرت ابراہیم (متوفی شته، فرزند رسول انتقال کر گئے