آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک

by Other Authors

Page 47 of 56

آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک — Page 47

فیصلہ کن ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم آیت خاتم النبین شیہ میں نازل ہوئی تھی۔اس کے نزول کے تقریباً ہم سال بعد ش میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزاد حضرت ابراہیم کی نوعمری میں وفات ہو گئی۔باوجود اس کے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم آیت خاتم النبین کا مفہوم ہر دوسرے انسان سے زیادہ سمجھتے تھے۔آپ نے اپنے نو عمر بچے کی وفات پر فرمایا :- لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا - کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو یقینا صدیق نہیں ہوتا۔بعض علماء اس حدیث کا یہ مفہوم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم کو اس وجہ سے بچپن میں وفات دے دی کہ کہیں بڑے ہو کر نبی نہ بن جائیں اور اس طرح آیت خاتم النبیین ونعوذ باللہ کے مفہوم پر زد نہ آجائے۔بالبداہت یہ تشریح عقل اور سنت الہی کے خلاف ہے۔یہ تو قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اگر کسی نیک انسان کے بچے نے بڑے ہو کر بڑے فعل کرنے ہوں تو بعض اوقات اس کے نیک باپ کی خاطر ایسے بچے کو بچپن میں ہی اُٹھا لیتا ہے۔پہلوک خدا تعالیٰ کے خاص احسان کا منظر ہے۔احسان کا منظر ہے۔لیکن قرآن کریم جو سنت اللہ پیش کرتا ہے۔اس سے کہیں یہ ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو