آیت خاتم النبیین اور جماعت احمدیہ کا مسلک — Page 11
- جان لو مطلق نبوت نہیں اُٹھی (ہند نہیں ہوئی ، صرف تشریعی نبوت منقطع ہوئی ہے۔چھٹی صدی ہجری کے ممتاز ہسپانوی مفسر اور پیشوائے طریقت صوفی الشیخ الاکبر حضرت محی الدین ابن عربی (متوفی ) فرماتے ہیں:۔۲۱۲۴۰ ( دى النبوة سَادِيَةٌ إلى يَوْمِ القِيَامَةِ فِي الْخَلْقِ وَ إِنْ كَانَ التَّشْرِيع قد نَقَطَعَ - فَالتَّشْرِ يعُ جُزْءً مِنْ اجزاء النبوة : افتوحات مکیہ جلد ۲ منتها باب ۱۷۳) ترجمه : که نبوت مخلوق میں قیامت کے دن تک جاری ہے گو تشریعی نبوت منقطع ہو گئی ہے پس شریعیت نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ فرماتے ہیں : ر حضرت اس نبوت کا دروازہ بند ہے جو احکام شریعیت جدید ساتھ رکھتی ہو یا ایسا دعوئی ہو جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے الگ ہو کر دعوی کیا جائے۔لیکن ایسا تخفض جو ایک طرف اس کو خدا تعالے اس کی وحی میں اتنی بھی قرار دیتا ہے پھر دوسری طرف اس کا نام نبی بھی رکھتا ہے یہ دعوئی قرآن شریف کے احکام کے مخالف نہیں ہے۔کیونکہ یہ نبوت بباعث امتی ہونے کے در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ظل ہے کوئی مستقل