بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت

by Other Authors

Page 8 of 64

بزرگان اُمت کے نزدیک ختم نبوت کی حقیقت — Page 8

قيللا ولياءِ وَالأَنْبِيَاءِ الخبرة اللة والانبياء الشرائع وَالرُّسُلِ الْبُرُ وَ الجمعة من افتوحات مکیه جلد ۲ باب ۱۵۹ صفوان کام جو الہ ٹریکٹ سواری لال حسین) مگر اس عبارت کو مولوی لالی حسین صاحب سمجھ نہیں سکتے اور انہوں نے اس کا غلط ترجمہ کیا ہے۔اس لئے نتیجہ نکالنے میں بھی اُن سے لازما غلطی ہو گئی ہے۔اسس عبارت کا صحیح ترجمہ یہ ہے:۔اولیاء اور انبیاء کو خاص طور پر المطر ( یعنی اخبار غیبیہ) ملتی ہے اور شریعت والے انبیاء اور رسولوان کو خمیر بھی ملتی ہے اور حکم بھی الینی اخبار غیبیہ اور احکام شریعت دونوں ملتے ہیں) اس عبارت سے صاف ظاہر ہوا کہ نبوت کی جیند و ذاتی اخبار یہ ہیں۔اسی تھے غیر تشریعی انبیاء کو تو اخبار غیبیہ ملنے کا ذکر ہے اور شریعت لانے والے انبیا اور ریل کو اخبار غیبیہ کے ساتھ الحکمہ ریعنی شریعیت جدیدہ انہی دی جاتی ہے۔ہمارے پیلٹ میں حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کا یہ قول نقل کیا ابن گیا تھا :- وہ نبوت جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ختم ہوئی ہے وہ شریعت والی نبوت ہے نہ کہ مقام نبوت اوست اس قول سے ظاہر ہے کہ نبوت غیر تشریعی ان کے نزدیک منقطع نہیں۔مولوی لال حسین صاحب اختر اس عبارت سے انکار تو نہیں کر سکے۔مگر چونکہ انہیں اه فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۳